اسلام آباد: (بی بی یو ورلڈ نیوز اردو) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کر رہا ہے، سعودی عرب اور یو اے ای پر ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہیں، ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ وزیر داخلہ نے ایران کے 2 دورے کیے، ایران قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں، ملاقاتوں میں پاک ایران دو طرفہ تعلقات اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ چین نے ہر مشکل میں پاکستان کی مدد کی، پاکستان اور چین کے درمیان بہتر ین تعلقات پائے جاتے ہیں، تجارت ، صنعت ، تعلیم اور عوامی رابطوں میں دوں ملکوں میں باہمی شراکت داری موجود ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ سفارتی تعلقات کے 75 سال پر پاک چین لازوال دوستی اور باہمی تعاون کا اعادہ کیا جارہا ہے، پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں، چین کی جانب سے غیر متزلزل حمایت جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کل سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے، ان کا دورہ دونوں ممالک کی آل ویدراسٹریٹجک پارٹنر شپ کی تجدید اور مزید مضبوطی کا باعث بنے گا، وزیراعظم پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کی صدارت بھی کریں گے، بیجنگ میں وزیر اعظم ایک استقبالیہ تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیر اعظم لی چیانگ سے ہوگی، زراعت ، تجارت، آئی ٹی ، سائنس اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ پر توجہ دی جائےگی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گردی پھیلانے کے درپے ہے، بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کیلئے بلند ہونے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالی بربریت کی عالمی برادری گواہ ہے، کشمیری رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے مظالم قابل مذمت ہیں۔
وزارت خارجہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ پاکستان 21 مئی کے واقعہ میں شہید کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ 17 مئی کو سعودی عرب اور یو اے ای کی فضائی حدود میں ڈرون حملوں کے واقعات پیش آئے، ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، پاکستان نے ڈرون واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور سخت مذمت کی، پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔
ترجمان نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی ڈیپورٹیشن سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ یو اے ای سے پاکستانیوں کو نکالے جانے کے الزامات بے بنیاد ہیں، ہم ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہیں، تقریباً 3000 پاکستانیوں کو متحدہ عرب امارات سے نکالنے کی وجوہات مختلف ہیں اور اگر ہم وہاں موجود پاکستانی ڈائسپورا کو دیکھیں تو یہ معمولی فگر ہے۔





