مظفر آباد: (بی بی یو ورلڈ نیوز اردو) آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی عبوری رجسٹریشن کرنے کا ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔
آزاد جموں و کشمیر کے چیف جسٹس سعید اکرم راجہ کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کی درخواست پر فل بنچ تشکیل دے دیا گیا، سماعت 2 جولائی کو ہوگی۔
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے درخواست میں استدعا سے بڑھ کر ریلیف فراہم کیا، اس لیے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جانا چاہئے۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کو رجسٹر کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں چیلنج کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کیے جانے کے بعد فی الحال پی ٹی آئی کو انتخابی نشان ’بلا‘ حاصل نہیں ہوگا۔
آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات 27 جولائی 2026 کو ہوں گے، آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول جاری کر دیا ہے، کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے، جانچ پڑتال، اپیلوں اور کاغذات واپس لینے کی تاریخیں بھی مقرر کر دی گئی ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر کی تازہ انتخابی فہرستوں کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً 38 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جو 2021 کے انتخابات کے مقابلے میں تقریباً 5.8 لاکھ زیادہ ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے سے انتخابی عمل کا راستہ ہموار ہوا ہے، عدالتِ عظمیٰ نے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 اسمبلی نشستوں کو برقرار رکھا، جس کے بعد انتخابات کے انعقاد میں موجود ایک اہم آئینی رکاوٹ دور ہو گئی۔
مسلم لیگ (ن) نے 45 میں سے 37 نشستوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے، پارٹی نے کئی نئے چہروں کو ٹکٹ دیے ہیں جبکہ بعض سابق ارکان کو ٹکٹ نہیں ملا۔
پاکستان پیپلز پارٹی زیادہ تر نشستوں پر امیدوار میدان میں اتار رہی ہے اور انتخابی مہم میں مہنگائی، گورننس اور ریاستی خودمختاری کو اہم نعرہ بنا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے امیدوار بھی مختلف حلقوں میں حصہ لے رہے ہیں، تاہم پارٹی کو تنظیمی اور قانونی مسائل کی وجہ سے بعض حلقوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مہاجرین کی چند نشستوں پر مقابلہ خاصا سخت دکھائی دے رہا ہے، تین مہاجر نشستوں کے لیے 58 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر کے آمدہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی میں اتحاد بھی ہو گیا ہے۔





