لاہور: (بی بی یو ورلڈ نیوز اردو) لاہور کے علاقے کاہنہ کے ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کو سپردخاک کر دیا گیا، دوسری جانب پولیس نے واقعہ کا مقدمہ انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔
واقعہ میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، لواحقین غم سے نڈھال، جبکہ ہر آنکھ اشکبار نظر آئی، علاقے کی فضا سوگوار ہے۔
سانحہ کاہنہ میں زخمی خاتون ٹیچر انیلا نے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیوشن سنٹر میں 30 سے 35 بچے پڑھنے آتے تھے، حادثے کے روز 20 بچے آئے، بارش سے چھت ٹپکتی تھی جس کی وج سے مرمت کا کام شروع کیا، میری بیٹی بھی حادثے میں زخمی ہوئی اور وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہوگئی ہے۔
ادھر پولیس نے خاتون ٹیچر کے شوہر مرکزی ملزم ریحان کا بیان ریکارڈ کر لیا۔
ملزم نے کہا کہ بیوی گھر کا خرچ چلانے کیلئے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی، بارش سے چھت ٹپکتی تھی اس لئے بھائیوں اور مستری کے ساتھ ملکر چھت پر ٹائل لگا رہا تھا۔
دوسری جانب پولیس نے انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کاشف اسلم کی مدعیت میں واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق چھت پر غفلت اورلاپرواہی کے باعث کام کرنے سے قیمتی جانیں کا ضیاع ہوا، ٹیوشن سینٹر کی چھت پر مرمتی کام جاری تھا، زیادہ وزن پڑنے سے چھت گر گئی، ملبے تلے دب کر 14 بچے جاں بحق ہوئے، چھت گرنے کے حادثے میں خاتون ٹیچر سمیت 7 بچے زخمی ہوئے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق پولیس نے مکان مالک سمیت 5 افراد کوحراست میں لے رکھا ہے، تفتیش مکمل ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں 14 بچے جاں بحق جبکہ ٹیچر سمیت 7 زخمی ہوئے تھے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع شام 4 بج کر 45 منٹ پر ملی تھی، علاقہ مکینوں کے مطابق عمارت میں صبح کے اوقات میں سکول بھی چلتا تھا جبکہ بچے اکیڈمی میں ٹیوشن کیلئے موجود تھے۔
پولیس کے مطابق ٹیوشن سینٹر کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا، گراؤنڈ فلور پر بچے موجود تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کیں، واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے حادثے کے ذمہ داران کے تعین کا حکم بھی دیا ہے۔
انہوں نے صوبائی وزراء کو امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی ہے۔





