براڈ پیک پر لاپتا کوہ پیما ٹیم کے 4 افراد کی لاشیں مل گئیں، 6 ارکان کی تلاش جاری

گلگت: (بی بی یو ورلڈ نیوز اردو) براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے لاپتا ہونے والی 10 رکنی بین الاقوامی کوہ پیما ٹیم کے 4 ارکان کی لاشیں مل گئی ہیں جبکہ باقی 6 کوہ پیماؤں کی تلاش تیزی سے جاری ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع 8 ہزار 47 میٹر بلند دنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں نیپال کے معروف کوہ نِرمل پُرجا سمیت 10 کوہ پیما لاپتا ہوئے۔

پاکستان کے پہاڑی سلسلے قراقرم کی براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے کےبعد بین الاقوامی کوہ پیما ٹیم کے ارکان کی تلاش کیلئےسرچ آپریشن جاری ہے، سرچ اینڈ ریسکیومشن کی قیادت معروف پاکستانی کوہ پیما سرباز خان کررہے ہیں۔

اے سی پی کے سینئر نائب صدر کرار حیدری نے بتایا کہ امدادی کارروائی میں معاونت کے لیے پاک فوج کے ایوی ایشن کے دو ریسکیو ہیلی کاپٹر روانہ کیے گئے ہیں، جن میں امدادی کارکن اور اضافی خصوصی سازوسامان موجود ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹیم میں پانچ نیپالی کوہ پیما شامل ہیں جن میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کرنے والے معروف کوہ پیما نمس دائی بھی شامل ہیں۔

ٹیم میں پاکستان کے ضلع ہنزہ سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما سہیل سخی بھی موجود ہیں جبکہ عمان، امریکا اور چین کے کوہ پیما وانگ کے علاوہ ایک اور غیر ملکی رکن بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔

اس گروپ کی قیادت نیپال میں پیدا ہونے والے معروف کوہ پیما نرمل پرجا کر رہے تھے، 43 سال کے نِرمل پُرجا نے کوہ پیمائی کو بطور پیشہ اختیار کرنے سے قبل برطانیہ کی بریگیڈ آف گورکھاز اور بعد ازاں رائل میرینز کے سپیشل بوٹ سکواڈرن میں خدمات انجام دیں اور وہ متعدد عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔

انہوں نے اپریل سے اکتوبر 2019 کے درمیان صرف چھ ماہ اور چھ دن میں آٹھ ہزار میٹر سے بلند دنیا کی تمام 14 چوٹیوں کو سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔

بعد ازاں 2021 میں نِرمل پُرجا نے نو دیگر نیپالی کوہ پیماؤں کے ہمراہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو پہلی بار موسمِ سرما میں سر کرنے کا تاریخی کارنامہ بھی انجام دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں